اسلامی عبادات میں حج کا مقام اور اہمیت -ڈاکٹر حافظ حقانی میاں قادری

’’حج‘‘ دین کا بنیادی رکن اور ایک مقدس دینی فریضہ ہے۔فریضہ حج کی ادائیگی اور بیت اللہ میں حجا ج کرام کی حاضری لازم وملزوم ہے۔حج کا تصور ذہن میں آتے ہی خانۂ خدا کعبۃ اللہ کی عظمت وجلالت اور اس کا تصورذہن میں گھومنے لگتا ہے۔ بیت اللہ کو اللہ جل شانہ کی عبادت کے لیے تعمیر کیے جانے والے پہلے گھر کا شرف حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ’’پہلا گھر جو لوگوں (کے عبادت کرنے) کے لیے مقرر کیا گیا ،وہی ہے جو مکہ میں ہے۔ بابرکت اور جہان کے لیے موجب ہدایت ہے۔‘‘(سورہ ٔآل عمران)
اللہ جل شانہ نے اپنے اس گھر کو اس قدر عزت و احترام سے نوازا کہ رہتی دنیا تک اسے مسلمانوں کا قبلہ بنا دیا ہے۔ دنیا بھر میں اہل ایمان خواہ وہ مشرق میں ہوں یا مغرب میں ، شمال میں بستے ہوں یا جنوب میں۔ وہ اسی کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے ہیں اور قیامت تک اسی کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرتے رہیں گے۔ صرف اتنا ہی نہیں، اسلام کے پانچ بنیادی ارکان ہیں۔ ان میں سے ایک رکن یعنی حج کو بھی اس گھر کے ساتھ مربوط کر دیا گیا ہے۔ کعبۃ اللہ کی تعمیر سے آج تک اللہ وحدہ لا شریک کے بندے صدائے ابراہیم پر لبیک کہتے چلے آ رہے ہیں اور قیامت تک لبیک کہتے ہوئے حرم شریف کی طرف رواں دواں رہیں گے۔ کعبۃ اللہ کی تعمیر کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے خلیل پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا تھا کہ وہ لوگوں میں اعلانِ حج کر دیں۔قرآن مجید اس بات کو یوں بیان فرماتا ہے :’’اور لوگوں میں حج کے لیے ندا کر دو کہ تمہاری طرف دبلی اونٹنیوں پر جو دور دراز راستوں سے چلی آتی ہوں (سوار ہو کر) چلے آئیں۔‘‘(سورۃالحج)
خوش قسمت ہیں وہ لوگ، جنہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ ندا سنی اور اس پر لبیک کہا اور اس طرح انہیں اسلام کا ایک اہم رکن ادا کرنے کی سعادت و توفیق حاصل ہوئی۔ یہ رکن اسلام ،جسے شریعت کی اصطلاح میں حج کہا جاتا ہے، زندگی بھر میں ایک مرتبہ فرض ہے اور وہ بھی ان لوگوں پر جو اس کی استطاعت رکھتے ہوں۔ استطاعت کا مفہوم یہ ہے کہ کسی شخص کے پاس مکہ مکرمہ تک جانے اور واپس آنے کا خرچ ہو اور اس کے اور اہل و عیال کے پاس ضروریات کے لیے بھی مصارف موجود ہوں۔قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے :’’اور لوگوں پر اللہ کا حق (یعنی فرض) ہے کہ جو اس گھر تک جانے کی استطاعت رکھے، وہ اس کا حج کرے۔‘‘ (سورۂ آل عمران)
وہ شخص بڑا خوش نصیب ہے کہ جسے اسلام کے اس اہم رکن کی سعادت حاصل ہو اور اس سے بھی زیادہ خوش نصیب وہ ہے جو اس عبادت کو محض دنیاوی نام و نمود کے لیے ادا نہ کرے، بلکہ اس کا مقصد فرائض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ حج کی برکتوں، سعادتوں اور رحمتوں کا حصول بھی ہو اور وہ اس فرض کی تکمیل اس طرح کرے کہ اس کا حج، حج مبرور بن جائے جس کی فضیلت حدیث نبویؐ میں وارد ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’حج مبرور کی جزا صرف جنت ہے۔‘‘ (صحیح بخاری)
شارحین حدیث اس حدیث کی وضاحت میں فرماتے ہیں کہ حج مبرور وہ ہے کہ جس میں حاجی سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو اور اس کے تمام ارکان سنت نبویؐ کے مطابق انجام پائیں۔قرآن کریم کی درج ذیل آیت سے بھی یہی مراد ہے: ’’جو شخص ان مہینوں میں حج کرے تو حج (کے دنوں) میں نہ عورتوں سے اختلاط کرے ،نہ کوئی برا کام کرے اور نہ کسی سے جھگڑے۔‘‘ (سورۃ البقرہ)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ’’اور انہیں تو اللہ کا حکم یہی ہوا تھا کہ اخلاص عمل کے ساتھ اللہ کی عبادت کریں۔‘‘ (سورۃ البینہ) اسی طرح حدیث نبویؐ میں ارشاد ہے : ’’تمام اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو اس کی نیت کے مطابق ہی اجر ملنے والا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری)
اخلاصِ نیت کے بعد یہ بات بھی ازحد ضروری ہے کہ حج پر نکلنے سے پہلے اپنے سابقہ اعمال پر نظر ڈالی جائے کہ زندگی میں کتنے فرائض و واجبات چھوڑے ہیں، کتنے گناہوں کا ارتکاب کیا ہے۔ پھر گناہوں کی اس فہرست میں وہ گناہ کتنے ہیں کہ جن کا تعلق بندگانِ خدا کے ساتھ ہے۔ غیبت، حسد، چغل خوری، حق تلفی، بد عہدی، ظلم و زیادتی، نا انصافی، بد زبانی و بد کلامی، اذیت رسانی وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب وہ گناہ ہیں جو ہم کسی احساس یا ادراک کے بغیر ہمہ وقت کرتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہم ان گناہوں کے اس درجہ عادی ہو چکے ہیں کہ یہ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ یوں تو ہر مسلمان کے لیے ان گناہوں سے تائب ہونا اور بچنا اور آئندہ نہ کرنے کا عہد ضروری ہے۔جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے : ’’اور مومنو سب مل کر اللہ کے آگے توبہ کرو، تاکہ فلاح پائو۔‘‘ (سورۃ النور)
لیکن حجاج کرام کے لیے روح کی پاکیزگی اس لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اللہ جل شانہ کے مہمان بن کر جا رہے ہیں، جس طرح دنیا میں کسی بھی معاشرے میں مہمان صاف ستھرا ہو کر میزبان کے گھر جاتا ہے۔ اسی طرح ان مہمانوں کے لیے جو اللہ اور اللہ تعالیٰ کے گھر کے مہمان بن کر جا رہے ہیں، ضروری ہے کہ وہ تمام آلائشوں، کدورتوں، نفرتوں سے پاک و صاف ہو کر اللہ تعالیٰ کے گھر میں قدم رکھیں اور اس تزکیہ و تطہیر کا سب سے اہم اور بڑا ذریعہ توبہ اور استغفار میں ہے۔
حدیث نبویؐ میں ارشاد ہے :’’گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہے، گویا اس سے کوئی گناہ سرزد ہی نہ ہوا ہو۔‘‘ (سنن ابن ماجہ) یہ تو ان گناہوں کا معاملہ ہے جو اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرنے سے متعلق ہےاور اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اپنے بندے کے گناہوں کو معاف کرنے پر قادر ہے۔ توبہ اللہ تعالیٰ اور اس کے بندے کے درمیان کا معاملہ ہے، لیکن ان سے بڑھ کر وہ کوتاہیاں اور لغزشیں ہیں، جن کا تعلق حقوق العباد سے ہے۔ ان تمام کوتاہیوں، لغزشوں اور گناہوں کے لیے متعلقہ لوگوں سے معافی مانگنا (اگر وہ زندہ ہوں) ضروری ہے اور اگر وہ زندہ نہ ہوں تو ان کے لیے زیادہ سے زیادہ ایصالِ ثواب کرنا چاہیے ، تاکہ قیامت کے دن وہ اپنے نامۂ اعمال میں آپ کے بھیجے ہوئے تحائف و ہدایا دیکھ کر نرم پڑ جائیں اور خوش ہو جائیں۔ اس طرح کی معافی کا تعلق بھی ان کوتاہیوں سے ہے جو مالیات سے متعلق نہ ہوں۔ مثلاً کسی پر ظلم کیا ہو ،تو وہ متعلقہ لوگوں سے معاف کرانا ہوں گے یا ان کی معافی کی صورت یہ ہو گی کہ جو کچھ مالی واجبات کسی دوسرے کے ہیں، وہ پورے طور پر ادا کیے جائیں۔ الّا یہ کہ حق دار خود ہی اپنا حق چھوڑنے پر راضی ہو جائے۔
بعض اوقات حقوق کی ادائیگی میں اس قدر تاخیر ہو جاتی ہے کہ حق دار لوگ اس دنیا سے ہی رخصت ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں ان کے ورثا سے رابطہ کرنا بے حد ضروری اور اہم ہے۔ اگر ایک بھی وارث ایسا باقی رہ گیا، جب تک اس کا حق نہیں پہنچایا گیا یا اس سے معاف نہیں کروایا گیا تو اس کے ذمے یہ حق واجب رہے گا اور اس سے راہ فرار کی کوئی صورت نہیں ہو گی۔ بیت اللہ کا سفر خیر و سعادت کا سفر ہے جس طرح دنیاوی اسفار کے لیے سفر کی نوعیت کے لحاظ سے مناسب زادِراہ اور سفر کاخرچ لے کر چلتے ہیں۔ اسی طرح اس سفر کے لیے بھی مناسب زاد ِراہ لے کر چلنے کی ضرورت ہے، تاکہ دوسروں پر بوجھ نہ بنے۔ اس زادِراہ کا انتخاب خود قرآن کریم نے کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’اور زاد راہ (یعنی راستے کا خرچ) لے جائو، کیوں کہ بہتر زادِ راہ پرہیز گاری ہے اور اہلِ عقل مجھ سے ڈرتے ہوں۔‘‘ (سورۃ البقرہ)
جب ہم اس جذبے کے ساتھ بیت اللہ کا سفر کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے حبیب پاک نبی کریم ﷺ کی اس حدیث کا مصداق بنائیں گے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا :’’جس نے فریضۂ حج ادا کیا اور لغو بات یا لڑائی جھگڑا نہ کیا، تو وہ سفر حج سے ایسے واپس لوٹے گا کہ جیسے اپنی ماں کے پیٹ سے آج ہی پیدا ہوا ہو۔

مزید پڑھیں:  ’’حقیقت ابدی ہے مقام شبیری بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی‘‘