بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی

ھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کا آرٹیکل 370 ختم کر دیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق صدارتی حکم نامے کے ذریعے آرٹیکل 370 کو ختم کر دیا گیا ہے جس کے تحت مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں کہلائے گی۔

بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 مقبوضہ کشمیر میں خصوصی اختیارات سے متعلق ہے۔

آرٹیکل 370 ریاست مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے، اسے برقرار رکھنے، اپنا پرچم رکھنے اور دفاع، خارجہ و مواصلات کے علاوہ تمام معاملات میں آزادی دیتا ہے۔

دفعہ 370 کے تحت ریاست مقبوضہ کشمیر کو ایک خصوصی اور منفرد مقام حاصل ہے۔ بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست مقبوضہ کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے۔

بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت کسی بھی دوسری ریاست کا شہری مقبوضہ کشمیر کا شہری نہیں بن سکتا اور نا ہی وادی میں جگہ خرید سکتا ہے۔

بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 ختم کرنے کا بل بھی راجیہ سبھا میں پیش کیا۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بل کے حق میں 125 جبکہ مخالفت میں 61 ووٹ آئے۔

اس کے علاوہ امیت شاہ نے ایک اور بل پیش کیا جس تحت مقبوضہ کشمیر کو وفاق کے زیرِ انتظام دو حصوں یعنی (UNION TERRITORIES) میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ پہلا حصہ لداخ جبکہ دوسرا جموں اور کشمیر پر مشتمل ہوگا۔

ان دونوں علاقوں کا انتظام براہ راست وفاقی حکومت کے پاس ہوگا اور یہاں لیفٹیننٹ گورنر تعینات ہوگا۔ بھارت میں اس سے قبل تقریباً سات UNION TERRITORIES موجود ہیں۔

مزید پڑھیں:  پلیٹلیٹس میں کمی کی وجہ زہر تو نہیں، تحقیق ہونی چاہیے

بل کے مطابق لداخ بغیر مقننہ جبکہ جموں و کشمیر مقننہ کے ساتھ union territory ہوں گے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی صدر رام ناتھ کووند نے مذکورہ بل پر دستخط کردیے ہیں جس کے بعد اسے قانون کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔

ہندو انتہا پسند بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے راجیہ سبھا میں خطاب کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی کی گئی۔

امیت شاہ نے کہا کہ مناسب وقت آنے پر جموں و کشمیر کا ریاست کا درجہ بحال کردیا جائے گا تاہم اس میں وقت لگ سکتا ہے۔

مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھارت کی جانب سے وادی کی خصوصی حیثیت سے متلعق آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے کے برصغیر پر تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔

محبوبہ مفتی نے کہا کہ مودی سرکار کا فیصلہ مقبوضہ کشمیر کی لیڈر شپ کا 1947 کے بھارت سے الحاق نہ کرنے کے فیصلے سے متصاد م ہے، بھارتی حکومت کا یک طرفہ فیصلہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔

وادی کی سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بھارت کشمیر میں اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔

بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما غلام نبی آزاد نے مودی سرکار کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آج بی جے پی نے آئین کا قتل کر دیا ہے۔

غلام نبی آزاد نے کہا کہ ہم بھارتی آئین کے ساتھ کھڑے ہیں اور اپنی جانوں سے بھارتی آئین کا تحفظ کریں گے۔

مزید پڑھیں:  یومِ تکبیر، پاکستان کو ایٹمی قوت بنے 21 برس مکمل

سابق وزیر اعلی مقبوضہ کشمیر نے اپنے ردعمل میں کہا کہ بھارتی حکومت کا یک طرفہ اور چونکا دینے والا فیصلہ کشمیریوں کے بھروسے کے ساتھ دھوکا ہے۔

عمر عبداللہ نے کہا کہ آرٹیکل 370 سے متعلق ہمارے خدشات بدقسمتی سے درست ثابت ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی اقدام مقبوضہ کشمیر کے عوام کے خلاف جارحیت ہے اور آرٹیکل 370 ختم کرنے کے بھارتی فیصلے کے خطرناک نتائج ہوں گے، آگے ایک طویل اور سخت جنگ ہے جس کے لیے ہم تیار ہیں۔

واضح رہےکہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کی تھی جسے بھارت نے مسترد کر دیا اور امریکی صدر کی پیشکش کے بعد سے بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لیے کوششیں تیز کر دیں۔

لائن آف کنٹرول پر بھی بھارتی اشتعال انگیزی میں اضافہ ہو گیا ہے اور بھارت نہتے کشمیریوں پر کلسٹر بموں سے حملے کر رہا ہے جو جینیوا کنونشن کے ساتھ عالمی انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔

بھارت نے آئین سے آرٹیکل 370 کے خاتمے سے قبل مقبوضہ کشمیر میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو بھی نافذ کر دیا ہے اور مقبوضہ کشمیر کے دو سابق وزرائے اعلیٰ سمیت حریت رہنماؤں کو گھروں میں نظر بند کر کے اضافی نفری تعینات کر دی ہے۔