’’سورۃ الفاتحہ‘‘ اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال اور توحید ربانی کا مظہر

کلمہ توحید کا قائل ہونا بڑے نصیب کی بات ہے۔یہ ایک ایسا کلمہ ہے جس کا پھیلائو پوری زندگی پر ہے۔ رسول اللہﷺ کی رسالت کے اقرار کے ساتھ ساتھ اس کلمے کے دو جزو ہیں:ایک ’’لَا اِلٰہَ ‘‘اور دوسرا ’’اِلَّا اللہُ‘‘۔ پہلاجزو نفی کا ہے اور دوسرا اثبات یعنی توحید کا۔ یہ کلمہ ہمیں یہ بات سکھاتا ہے کہ ہمیں جس قدر شرک سے نفر اور بےزاری ہو،اسی قدر اللہ سے محبت ہو۔توحیدسے انسان کو وہ اطمینان اور سکون ملتاہے جو کسی اور چیز میں میسرنہیں ۔توحید کو ہم نے ایک جامد عقیدہ بنا دیا ہے ،حالاںکہ یہ ایک متحرک عامل ہے جو انسان کو قوت اور طاقت فراہم کرتا ہے ۔یہ قرآن حکیم کا مرکزی مضمون ہے او رہر سورت میں اس کا مفصل ذکر ہے۔مفسرین نے سورۃ الفاتحہ کی اپنے اپنے ذوق کے مطابق تفسیر بیان کی ہے جو نہایت عمدہ ہے۔ اس تحریر میں سورۃ الفاتحہ کے بارے میں ایک خاص زاویے سے بات کی جارہی ہے۔اس مختصر اور جامع سورت میں توحید اور اس کی انواع بڑے واضح اسلوب میں بیان ہوئی ہیں ، جنہیں بعض مفسرینِ کرام نے ذکر بھی کیا ہے ،لیکن ہمارے ہا ں عام طور پر اسے صرف دُعا تک محدود کر دیا گیا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک جامع دُعا بھی ہے، لیکن اسے اور پہلوئوں سے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ علماء نے توحید کی تین اقسام بیان کی ہیں جو دراصل علم الاصول کا درجہ رکھتی ہیں: توحید الّر بوبیۃ۔توحید الأ لوھیۃ ۔توحید الأ سماء وَالصِّفات۔
توحید الّر بوبیۃ:اللہ تعالیٰ کو اس کے افعال میں اکیلا ماننا ۔جیسے خلقت، بادشاہی،رزق کی فراہمی، موت اور زندگی، کائنات کے اُمور کی تدبیر وغیرہ ۔یہ سب کام اللہ تعالیٰ کے ہیں۔ان امور کے سلسلے میں اس کا کوئی شریک نہیں ۔ یہ تمام کام وہ تنہا کرتا ہے۔قرآن حکیم میں مختلف مقامات پر بیان ہوا ہے کہ مشرکینِ مکّہ سے جب پوچھا جاتا کہ تمہارا خالق کون ہے ؟تمہیں رزق کون دیتا ہے؟کائنات کی تدبیر کون کرتاہے ؟تو وہ بلا تامل کہتے کہ اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے۔ارشاد ہو ا:ــ’’ان سے کہو ،بتائو اگر تم جانتے ہو کہ یہ زمین اور اس کی ساری آبادی کس کی ہے؟یہ ضرور کہیں گے اللہ کی! کہو،پھر تم ہوش میں کیوں نہیں آتے؟۔‘‘ اَفَلَا تَذَکَّرُوْنَ میں دراصل تنبیہ ہے کہ تم مختلف امور میں اُس کے مالک ہونے کا اقرار کر رہے ہو تو عملی زندگی میں اس کی اطاعت تسلیم کرو، اُس کی حاکمیت کو چیلنج نہ کرو۔ اپنی انفرادی زندگی میں بھی اسے حاکم مانو اور اجتماعی زندگی میں بھی اس کے دئیے ہوئے قوانین ہی کو حرفِ آخر سمجھو۔ اگر تم سمجھ رہے ہو کہ وہی کائنات کا مدبّر ہے تو پھر اپنی روزمرہ زندگی میں اُسی کو حاکمِ مطلق مانو ،تاکہ تمہارا انظامِ زندگی بغیر کسی خلل کے چل سکے ۔
توحید الأ لوھیۃ :اکیلے اللہ کو عبادت کا حق دار سمجھنا ۔اس میں ہر نوع کی عبادت شامل ہے،چاہے قولی عبادت ہو ، قلوب کے اعمال ہوں ،یا عملی عبادت ہو۔جیسے صلاۃ، استغاثہ، استعانت،توکل، رجاء، دعا کرنا ، نذر ماننا وغیرہ۔ ان تمام امور میں لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اللہ سے تعلق رکھیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ۔توحید کی اسی نوع میں لوگ زیادہ تر شرک میں مبتلا رہتے ہیں۔ توحید کی اس نوع سے تعلق رکھنے والی عبادت کی قبولیت کی دو شرائط ہیں۔ ایک یہ کہ ان میں اخلاص ہو اور دوسرا عنصر یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ کے طریقے پر ہو۔توحید کی اس نوع کے بارے میں واضح رہے کہ جس طرح ہم مان رہے ہیں کہ صلاۃ اور دیگر عبادات صرف اللہ کا حق ہیں،اسی طرح ہم اپنی اجتماعی زندگی میں اسے مقتدرِ اعلیٰ مانیں ،اُ س کی توحید قائم ہوتی دکھائی دے، ہرمعاملے میں اللہ اور اُس کے رسول اللہ ﷺ کی اتھارٹی نظر آئے۔ پھر توحید الوہیت کے ثمرات سوسائٹی کو حاصل ہوں گے اور اس کے مثبت اثرات فر د تک پہنچیں گے۔
توحید الأ سماء وَالصِّفات:جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات میں کوئی شریک نہیں ہے، اُسی طرح اُس کی صفات میں بھی کوئی شریک نہیں ہے ۔اللہ تعالیٰ کے وہ اَسماء وصفات جو اُس نے اپنے بارے میں بتائے ہیں یا جن کے بارے میں آنحضور ﷺ نے ہمیں آگاہ کیا ہے، ان میں وہ تنہا ہے۔ اُس کی ذات وصفات کی نہ کوئی مثال ہے ،نہ تشبیہ اور نہ ہی کوئی نظیر ۔وہ مخلوق کی مشابہت سے بالکل پاک ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کو بغیر کسی تمثیل اور بلا کیف ماننا لازم ہے۔ اس اسماء وصفات کی کوئی تاویل کرنا جائز نہیں:ارشادہے:’’اُس کے مانند کوئی شے بھی نہیں ہے۔‘‘(سورۃ الشوریٰ)بعض مفسرین کرام کا کہنا ہے کہ مثل، یہاں صفات کے مفہوم میں ہے۔ اس کی صفات کی مانند کسی کی صفات نہیں ہیں۔ اللہ کی صفات کی کیفیت کوئی نہیں جان سکتا۔ ارشاد ہوا :’’اور ان کا علم اس کا احاطہ نہیں کر سکتا۔‘‘(سورۂ طٰہٰ) قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے دو ہاتھو ں کا ذکر ہے:’’بلکہ اُ س کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں۔‘‘(سورۃ المائدہ )اللہ کے دوہاتھوں کی تاویل کرنے کے ہم مجاذ نہیں ہیں۔ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ اس کے ہاتھ کیسے ہیں۔ ہم اللہ کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں پر محمول نہیں کر سکتے ۔
سورۃ الفاتحہ میں توحید کا بیان:
سورۃ الفاتحہ کے کئی نام ہیں۔ ان ناموں میں سے اُم القرآن اور القرآن العظیم بھی ہیں ۔یہ نام اس لئے دئیے گئے ہیں کہ اس میں قرآن مجید کے سب ہی موضوعات کا ذکر ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء اور اُس کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں۔ اس میں اس کی عبادت ، اور عبادت میں اخلاص پیدا کرنے کا ذکر ہے ۔ اس کی مدد کا محتا ج ہونے کا بیا ن ہےکہ اس کی اعانت کے بغیر کوئی کام انجام نہیں دیا جا سکتا۔اسی طرح صراطِ مستقیم کے بارے میں اللہ تعالیٰ ہی رہنمائی کر سکتا ہے ۔اگر اس کی رہنمائی شاملِ حال نہ ہو تو پھر انسان گمراہی کا شکا رہو جائے گا۔ گویا اس سورت کے بیش تر اُمور توحید سے متعلق ہیں۔امام قرطبی سورۃا لفاتحہ کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں :’’سورۃ الفاتحہ توحید، عبادت،وعظ ونصیحت اور یاد دہانی کے مضامین پر مشتمل ہے ۔‘‘عبدا لرحمن السعدی نے اپنی تفسیر’’ تیسیر الکریم الرحمن فی کلام المنان‘‘میں سورۃ الفاتحہ کی تفسیر کے اختتام پر اشارۃً بیان کیا ہے کہ ا س سورت میں توحید کی انواع کن کن کلمات میں بیان ہوئی ہیں۔ اب آئیے دیکھتے ہیں کہ اس سورت میں توحید اور اُس کی انواع کیسے بیان ہوئی ہیں۔ اس طور سے سمجھنے کے بعد تلاوت کرنے والوں کے لئے یہ سورت اور ہی اثرات مرتب کرے گی۔
٭اَلْحَمْدُلِلّٰہَ: یہ نہایت جامع کلمہ توحید ہے۔اس سورت کے علاوہ چار او رسورتیں ہیں جو حمدِ باری تعالیٰ سے شروع ہوتی ہیں۔حمد اور مدح کے لائق صرف اللہ کی ذا ت ہے ۔ الحَمد: حمد میں توحید الوہیت ہے اور اس میں مدح اور ثنا ء کرنے کے ساتھ ساتھ شکر کرنے کا بھی عنصر ہے۔اس حمد کا اظہار جہاں زبان سے ہوتاہے، وہیں عبادت کی شکل میں جوارح سے بھی ادا ہوتاہے ۔اللہ اسی اسم جلالہ سے توحید الوہیت ماخوذ ہے۔ اس اسم کے بارے میں لغویین میں بڑی بحثیں ہیں کہ لفظ اللہ کا اصل کیا ہے ۔البتہ ایک بات واضح ہے کہ یہ الٰہ اور معبود کے مفہوم میں ہے۔ اسم ’’اللہ‘‘ ایک جامع لفظ ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کے بہت سارے اوصاف جمع ہیں۔علمائے کرام کے مابین اختلاف ہے کہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ میں سے کون سا کلمہ زیادہ افضل ہے ۔علمائے کرام کاایک گروہ ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ‘‘کو افضل سمجھتا ہے ،کیوںکہ اس میں توحید وحمد دونوں ہیں اور ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ ‘‘میں توحید ہے۔
٭رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ، رب: اسم رب سے ہی توحیدربوبیت اخذ ہے۔رب دراصل مالک کے معنی میںہے،جیسے عربی میں گھر اور اونٹنی کے مالک کو رَ بُّ الدَّارِ اور رَبُّ النّاقَۃِ کہتے ہیں۔حضرت یوسف علیہ السلام کے قصے میں الفاظ آئے ہیں:’’اِرْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ‘‘ (سورۂ یوسف ۵۰) ’’اپنے آقا کے پاس جائو۔‘‘رب کا معنی آگے ’’مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ ‘‘میں آ گیا ہے کہ وہ مالک ہے ،اس کی بالادستی کو تسلیم کیا جائے۔ بعض لغویین لفظ رب کو تربیۃ سے لیتے ہیں ۔اس اعتبار سے یہ مفہوم ہو گاکہ وہ تمام کائنات کی حاجتوں اور ضرورتوں کا خیال رکھتا ہے۔
اَلْعٰلَمِیْن َ: اس میں کل کائنات شامل ہے۔ کائنات میں دو ہی وجود ہیں،ایک خالق اور دوسرا مخلوق ۔خالق اللہ کی ذات ہے اور اس کے سوا سب مخلوق ہے جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔رَبُّ الْعَالَمِیْنَ سے کائنات کے خالق کے وجود کا اظہار ہو رہا ہے اور یہ بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ کائنات کی ہر چیز اس کی محتاج ہے۔
٭اَلرَّ حْمٰنِ الرَّحِیْمِ:اَلرَّحْمٰن: یہ فعلان کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے ۔یعنی اللہ تعالیٰ بہت زیادہ رحم کرنے والاہے ۔اللہ کی رحمت دنیا اور آخرت دونوں جہانوں میں ہے۔ اَلرَّحِیْمِ: یہ فعیل کے وزن پر ہے جس میں دوام پایا جاتا ہے ۔یعنی وہ ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ۔اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ :اللہ تعالیٰ کے دو صفاتی نام ہیں جن سے بالکل واضح ہے کہ ان میں توحید الاسماء والصفات سے انسان کو حوصلہ ملتا ہے اور اس کی ڈھارس بندھتی ہے ۔وہ مایوس ہونے سے بچتا ہے ۔بسملہ میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ اَ لرَّ حْمٰنِ الرَّحِیْمِ کا ذکر ہے۔اہلِ علم کا ایک طبقہ بسملہ کو سورۃ الفا تحہ کا حصہ سمجھتا ہے،ان کے نزدیک اسے شامل کرنے سے سورۃ الفاتحہ کی سات آیات ہوتی ہیں اور صِرَاطِ الَّذِیْنَ سے وَلَا الضَّا لِیْنَ تک ساتویں اور آخری آیت ہے۔ جب کہ ایک دوسرا طبقہ جو بسملہ کو سورۃ الفاتحہ کا حصہ نہیں سمجھتا ، ان کے نزدیک صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَیَیْھِمْ چھٹی آیت ہے اور غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ ساتویں آیت ہے ۔بہرحال یہ ایک الگ موضوع ہے۔ یہاں صرف اس حد تک بات کی جا رہی ہے کہ بسم اللہ میں توحید الوہیت اور اَلرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ میں توحید الا سماء والصفا ت کا ذکر ہے۔
٭ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ : اس آیت میں توحید ربوبیت ہے ،کیونکہ اللہ تعالیٰ کے روزِ جزا وسزا کے مالک ہونے کا ذکر ہے۔ مٰلِکِ :یعنی وہ ذات جو صفت بادشاہت سے متصف ہو۔ وہ حکم کرنے اور منع کرنے کا اختیار رکھتا ہو اور جو اس کا حکم نہ مانے اسے سزا دینے کا اسے اختیار ہے۔ آخرت میں سب جن وانس اسے مالک ماننے پر مجبور ہوں گے۔آخرت میں صدا لگے گی :لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ ’’آج کے دن کس کی بادشاہی ہے؟جواب ملے گالِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَھَّارِ (سورۃالمومن)’’اللہ اکیلے زبردست کی۔‘‘ اس میں کچھ شک نہیں ،دنیا میں بھی وہی مالک ہے ،لیکن بعض انسان اپنی سرکشی کی وجہ سے اللہ کو اس کا یہ حق دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ آخرت میں اس کی صفت مالکیۃ کا پوری شان وجلال کے ساتھ ظہورہو گا۔
٭اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ: اس آیت میں توحید الوہیت کا بیان ہے۔ا س کا مفہوم یہ ہے کہ ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں ۔انتہا درجے کے خضوع کو عبادت کہتے ہیں ۔عبادت میں اطاعت بھی شامل ہے ،کیوںکہ عبادت کو مراسم عبودیت تک محدود نہیں کیا جاسکتا ،بلکہ زندگی کے تمام امور اس میں شامل ہیں۔زندگی کے ہر پہلو میں اللہ تعالیٰ کے آگے سرِ تسلیم خم کیا جائے۔اس عبادت کا حق دار صرف اللہ کی ذات ہے اور اللہ کی عبادت کا بنیادی عنصر توحید ہے۔ اس توحید کی وضاحت کا روشن پہلو یہی ہے کہ ہم اللہ (اور اس کے رسول ﷺ)کے حکم کے سامنے ہر حکم کو ہیچ سمجھیں۔اللہ کی حاکمیت ِ اعلیٰ کا نفاذ نظر آئے۔
وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ: اور تجھ سے ہی مد د چاہتے ہیں۔ہر مشکل میں تیرا ہی سہارا تلاش کرتے ہیں۔اس میں اللہ کے سامنے عجزوانکساری کا اظہار ہے۔ اللہ سے استعانت تو ہر چیز میں مانگنی چاہئے چھوٹا معاملہ ہو یا بڑا ،لیکن اس کے بعد ہدایت کے لئے دعا کی جارہی ہے، جس سے پتا چلتا ہے کہ انسان سیدھے راستے کی ہدایت کے لئے خصوصاً اللہ کی مدد کا محتاج ہے۔ سیدھا راستہ دکھائی دینے کے بعد تمام امور درست ہو جائیں گے۔اس آیت میں توحید الوہیت بڑے واشگاف الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔ تفسیر ابن کثیر میں مشہور مفسر ضحاکؒ اور ابن عباس ؓ سے اس آیت کا یہ مفہوم نقل کیا گیا ہے۔’’اے ہمارے رب ! ہم تیری ہی توحید کا اظہار کرتے ہیں ،تجھ ہی سے ڈرتے ہیں اور تجھ ہی سے اُمید لگائے بیٹھے ہیں ۔تیرے سوا ہم نہ کسی کی عبادت کرتے ہیں اور نہ ہی دعا مانگتے ہیں۔‘‘اس آیت کے بارے میں ابن کثیر ؒ بیان کرتے ہیں: یہاں شرک سے بےزاری کا اظہارہے اور وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْن میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے پاس طاقت ہونے کی نفی ہے اور اس میں سارے کاموں کو اللہ کے سپر دکرنے کا بیان ہے۔
٭اِھْدِنَا الصِّرَ اطَ الْمُسْتَقِیْمَ: کے کئی مطالب بیان کئے گئے ہیں ،لیکن غور کیا جائے تو یہ معلوم ہوگا کہ صراطِ مستقیم توحید کا راستہ ہے ۔اس مفہوم میں تمام معنی سمو جاتے ہیں ۔اگر ہم صراطِ مستقیم سے توحید مراد لیتے ہیں تو ایک اشکال ابھر تا ہے کہ دعا کرنے والا پہلے سے ہی توحید پر گامزن ہے تو پھر دعا اس چیز کے لئے کیوں کی جا رہی ہے جو پہلے سے حاصل ہے؟ اس ضمن میں واضح رہے کہ اِھْدِنَا کے کئی وجوہ ہیں۔اس کے معنی ثواب (بدلہ)بھی ہو سکتا ہے کہ ہم تیری ہی عبادت کر رہے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں تو اس کے بدلے میں اے ہمارے رب ہمیں سیدھا راستہ دکھا دے۔اِھْدِنَا میں اس مفہوم کا بھی امکان ہے کہ جس طرح ہم ماضی اور اب حال میں صراطِ مستقیم پر ہیں مستقبل میں بھی ہمیں اسی راستے پر گامز ن رکھنا۔
٭صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِم: جن لوگوں کے راستے پر چلنے کے لئے دعا کی جارہی ہے ،وہ اہلِ توحید تھے، جیسے انبیاء ،صدیقین ،شہداء اور صالحین ۔حضرت محمد ﷺ کے بارے میں ارشاد ہے :’’اور یقیناً آپﷺ سیدھے راستے کی جانب رہنمائی کرتے ہیں۔‘‘ ان انعام یافتہ لوگوں کے برعکس جو مغضوب اور ضالین ہیں ،وہ حقیقت میں اہلِ شرک ہیں۔
٭ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّآ لِّیْنَ: مفسرین کرام کے نزدیک عموما ً ’’ مَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ ‘‘سے مراد یہود اور ’’الضَّآ لِّیْن‘‘ سے مراد نصاریٰ ہیں۔ان دونوں گروہوں کو ان القابات سے پکارے جانے کی جو بھی وجہ ہے، وہ اپنی جگہ پر ہے ،لیکن یہ دونوں مذہبی گروہ شرک فی الذات کی انتہا تک پہنچے ہیں ۔حیرت ہے کہ یہ دونوں الہامی مذاہب ہیں، پھر بھی شرک فی الذات تک پہنچ جانا ایک غیر معمولی بات ہے جو امت ِ مسلمہ کے لئے عبرت کا مقام ہے ۔ایسانہ ہو کہ اُمت ِ مسلمہ کے بعض افراد آنحضور ﷺ او رامت کے صلحاء کو عقیدت میں اس حد تک لے جائیں کہ انہیںمخلوق کی صف سے ہی نکال دیں۔ انہیں چاہئے کہ شرک کے اندھیروں سے نکلیں ، توحید کی روشنی کی طرف بڑھیں اور دین میں غلو نہ کریں ۔