ٹرمپ کا دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ڈنمارک سے خریدنے کا منصوبہ

مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کے سب سے بڑے جزیرے گرین لینڈ کو ڈنمارک سے خریدنے کا منصوبہ پیش کرکے سب کو حیران کردیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خودمختار ڈینش علاقے گرین لینڈ کو خریدنے کا منصوبہ اپنے مشیران کے ساتھ ایک عشائیے میں پیش کیا۔

رپورٹس کے مطابق عشائیے کے دوران صدر ٹرمپ اپنے مشیروں سے گرین لینڈ کے قدرتی وسائل اور جغرافیائی اہمیت پر گفتگو کررہے تھے کہ اچانک انہوں نے اپنے مشیروں سے پوچھا کہ کیا امریکا گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل کرسکتا ہے؟

پھر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے قانونی ماہرین سے کہا کہ وہ اس معاملے پر کام کریں۔

رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے بعض مشیروں نے اس خیال سے اتفاق بھی کیا تاہم دیگر نے اسے دیوانے کا خواب قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ میں کیوں دلچسپی لے رہے ہیں؟
ممکنہ طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قدرتی وسائل، معدنیات (کوئلہ، تانبا، لوہا، زنک) اور جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے گرین لینڈ میں دلچسپی ہے۔

اس معاملے سے واقف دو افراد نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ صدر ٹرمپ گرین لینڈ کے محل وقوع اور نیشنل سیکیورٹی کے حوالے سے اس کی اہمیت کی وجہ سے بھی گرین لینڈ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

امریکا سرد جنگ کے دور سے ہی گرین لینڈ میں اپنا ریڈار بیس قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے کو گرین لینڈ نے یہ کہہ کر مسترد کردیا ہے کہ ‘گرین لینڈ برائے فروخت نہیں’۔

مزید پڑھیں:  برطانوی وزیراعظم ٹریزامے کا آج قوم سے خطاب اور مستعفی ہونے کا اعلان متوقع

گرین لینڈ کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘گرین لینڈ قدرتی وسائل اور معدنیات سے مالامال ہے، تجارت کے لیے ہمارے دروازے کھلے ہیں لیکن ہم برائے فروخت نہیں’۔

دوسری جانب ڈنمارک کے سیاستدانوں نے بھی ٹرمپ کے اس منصوبے کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔

گرین لینڈ شمالی بحر اوقیانوں اور بحر منجمد شمالی کے درمیان واقع ہے اور آسٹریلیا کے بعد دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے۔

اس کی آبادی تقریباً 56000 نفوس پر مشتمل ہے، اس کی اپنی پارلیمنٹ اور محدود خودمختار حکومت ہے۔

گرین لینڈ کا 80 فیصد حصہ برف سے ڈھکا ہوا ہے لیکن گلوبل وارمنگ کی وجہ سے برف تیزی سے پگھل رہی ہے اور گرین لینڈ کے معدنیات تک رسائی ممکن ہورہی ہے۔