پاک بھارت روایتی جنگ ہوئی تو اس کا اختتام ایٹمی جنگ پرہوگا، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت میں روایتی جنگ ہوئی تو اس کا اختتام ایٹمی جنگ پرہوگا جس کے نتائج بھیانک ہوں گے۔

قطری ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے عالمی برادری کو خبر دار کردیا اور کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنی کارروائیوں کے رد عمل کا الزام پاکستان پر لگا سکتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، سنجیدہ مداخلت کریں تو مسئلہ کشمیر کے حل کی گارنٹی دی جاسکتی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان جنگ میں پہل نہیں کرے گا، میں جنگ کے خلاف ہوں، پاکستان اور بھارت میں روایتی جنگ ہوئی تو اختتام ایٹمی جنگ پرہوگا اور ایٹمی جنگ کے نتائج بھیانک ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد سے اب تک انہوں نے بھارت کو مذاکرات کی پیشکش کی ہے لیکن بھارت پاکستان کی مذاکرات کی پیشکش کو غلط طریقے سے لے رہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بات کریں گے، بھارت مقبوضہ وادی میں حکومتی ظلم و ستم سے توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان پر دہشتگردی کا الزام لگا رہا ہے، پاکستان کو خدشہ ہے کہ بھارت فروری کی طرح پاکستان میں پھر کوئی حرکت کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنی کارروائیوں پر ردعمل کا الزام پاکستان پر لگاسکتا ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل روسی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں بھی وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ کوئی عقلمند شخص ایٹمی جنگ کی بات نہیں کرسکتا، کشمیر کی تباہ کن صورتحال کے جنوب ایشیا سے بہت دور تک اثرات ہوسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں:  چیئرمین سینیٹ کے بعد سپیکر کا نمبر، عمران خان کو ہٹانے کیلئے کس نے نوٹوں کی بوریاں نہیں بلکہ بینک کھول دیے ہیں؟ بڑا دعویٰ

انہوں نے کہا کہ کیوبا بحران کےبعد یہ پہلا موقع ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے حامل ملک آمنے سامنے ہوں، پاک بھارت کشیدگی بڑھی تو ناقابل تصور نتائج نکلیں گے، اس سے بچنے کے لیے عالمی برداری کردار ادا کرے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت شدت پسندوں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے، اقوام متحدہ اسی طرح کے بحرانوں کے حل کے لیے بنائی گئی تھی، صرف بیانات سے کام نہیں چلے گا، یہ عمل کرنے کا وقت ہے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ بھارت پر شدت پسندوں کا قبضہ ہے، عالمی برادری بھارت پر تجارتی پابندی عائد کرے، کچھ عالمی طاقتیں تجارتی فوائد کو انسانی زندگیوں سے زیادہ اہم سمجھتی ہیں۔

افغانستان کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان مذاکرات کیلئے طالبان پر جو اثر ڈال سکتا ہے وہ ڈال رہاہے، امید ہے صدر ٹرمپ طالبان سے مذاکرات بحال کریں گے، افغانستان کے مسئلے کا حل مذاکرات ہی ہیں فوجی حل نہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ اگر کرپٹ لیڈرز کرپشن کرنے کے بجائے یو ٹرن لے لیتے تو آج جیل میں نہ ہوتے، مجھے خوشی ہے کہ میں یو ٹرن کا وزیراعظم ہوں۔

عمران خان نے کہا کہ کوئی ایڈیٹ ہی ہوتا ہے جو یوٹرن نہیں لیتا، پاگل دیوار سے سر ٹکراتا رہتا ہے اور دانشمند راستہ بدل لیتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملک کی 40 فیصد بجلی درآمدی ایندھن سے حاصل ہوتی ہے، گیس، ایل این جی بھی درآمد ہوتی ہے اس وجہ سے ہر چیز مہنگی ہوتی ہے، ہم نے ملک کے کرنٹ اکاونٹ خسارے میں 70 فیصد کمی کردی ہے۔

مزید پڑھیں:  امریکہ نے پاکستانی سفارتکاروں کا ٹیکس استثنا ختم کردیا

عمران خان نے مزید کہا کہ ہم نے درآمدات کم کی ہیں برآمدات بڑھائی ہیں، وزارت عظمیٰ سنبھالی تو پاکستان پر 90.5 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا، میری حکومت کے 5 سال مکمل ہوجائیں تب ملک کی معیشت پر سوال کیا جائے۔

وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ آئی ایم ایف سے پاکستان کا یہ آخری پیکج ہوگا، وعدہ کرتا ہوں 5 سال بعد حکومت چھوڑیں گے تو سرپلس اکنامی ہوگی، آئی ایم ایف نے ہمیں اخراجات میں کمی اور روینیو بڑھانے کے سوا کچھ نہیں کہا۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان کیلئے چین سب سے بہترین دوست رہا ہے، یہ نیا پاکستان ہے کیونکہ میگا کرمنل کیسز میں جس طرح لوگ جیلوں میں ہیں پہلے نہیں تھے۔

انہوں نے کہا کہ 13 مہینوں میں وزیراعظم یا کسی وزیر کے خلاف کرپشن کیس نہیں آیا یہ ہے نیا پاکستان، ماضی کی طرح ہماری حکومت میں کوئی بزنس ایمپائر نہیں بنا رہا، پاکستان میں پہلی بار معیشت کو درست کیا جا رہاہے، کسی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لینے کاوقت 5 سال بعد کا ہوتا ہے، آئندہ چار ماہ میں پاکستان اسٹیل کام کرنا شروع کردے گی۔