چھپانے کو کچھ نہیں تو بھارت مقبوضہ کشمیر کیوں نہیں جانے دے رہا؟ امریکی سینیٹر

بھارت نے امریکی سینیٹرکو مقبوضہ کشمیر کے دورے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔

امریکی سینیٹر کرس وان ہولین نے بھارتی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ مقبوضہ وادی کا دورہ کرکے وہاں کے زمینی حقائق جاننا چاہتے تھے۔

امریکی سینیٹر نے بتایا کہ بھارتی حکومت نے انہیں یہ کہہ کر دورہ کرنے سے منع کردیا کہ مقبوضہ وادی کا دورہ کرنے کا یہ وقت درست نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب چھپانے کی کوئی چیز نہیں تو وزیٹرز کو مقبوضہ وادی آنے سے کیوں روکا جارہا ہے؟ بھارتی حکومت ہمیں نہیں دکھانا چاہتی کہ مقبوضہ وادی میں کیا ہورہا ہے۔

خیال رہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 62 روز سے کرفیو نافذ کررکھا ہے اور وہاں معمولات زندگی مفلوج ہیں جبکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اپنی تقریروں میں کہتے ہیں کہ وہاں حالات معمول پر ہیں لیکن ساتھ ہی وہ کسی بھی بین الاقوامی ادارے یا مبصرین کو مقبوضہ کشمیر کے دورے کی اجازت نہیں دیتے یہاں تک کے بھارتی سیاستدانوں کو بھی مقبوضہ کشمیر جانے سے روکا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں:  ٹرمپ کی غیر قانونی تارکین وطن کو آئندہ ہفتے سے ملک بدر کرنے کی دھمکی

Leave a Reply